ابنا: ترکی کے وزیر اعظم کے اس وفد میں توانائي اور قدرتی ذخائر کے وزیر تانر یلدیز ، وزیر اقتصاد ظفر چاقلایان اور ماحولیات کے وزیر اردوغان بایر اکتار کے علاوہ ترکی کی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین بھی شامل ہیں۔ تہران کا دورہ کرنے والے ترکی کے وفد کے ارکان پر نظر ڈالنے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ انقرہ ایران کے ساتھ اقتصادی میدان خصوصا توانائي کے شعبے میں اپنے تعلقات میں توسیع لانا چاہتا ہے۔ اور اس اقدام کے ساتھ ترکی نے درحقیقت یورپ کی ایران مخالف پابندیوں پر عمل درآمد کرنے کے سلسلے میں ڈالے جانے والے دباؤ کو مسترد کردیا ہے۔
خطے کے حالات خاص کر شام کی صورتحال کے سلسلے میں ترکی کی علاقائي پالیسیوں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کے درمیان ایک طرح کا تضاد پیدا ہوگيا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترکی نے ایک جانب شام کے بحران کے حل سے دوری اختیار کی ہے اور دوسری جانب اس کے اقدامات کو دیکھ کر شام کے امور میں اس کی مداخلت کا تصور پیدا ہوتا ہے یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی ایک ہمساۓ کے طور پر ترکی سے توقع نہیں کی جارہی تھی۔ امریکہ شام کو کمزور کرنے کے لۓ ترکی کے کردار سے فائدہ اٹھا رہا ہے جس سے بہت سے تضادات جنم لیں گے۔ البتہ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ ترکی اس امر کی جانب متوجہ ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے وہ خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں توسیع لانے کے لۓ کوشاں ہے۔
ترکی اب یہ بات سمجھ چکا ہے کہ شام کے بحران میں دخل دینے سے علاقائی کردار ادا کرنے کے سلسلے میں اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی کی راۓ عامہ شام کے معاملے میں انقرہ کی دخل اندازی کے خلاف ہے۔ در حقیقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترکی کے لوگ سیاسی ، سیکورٹی اور اقتصادی اعتبار سے خطے میں ترکی کی جانب سے یورپ کا ساتھ دیۓ جانے کی اس سے زیادہ قیمت ادا کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اس لۓ توقع کی جارہی ہے کہ ترکی اپنے ہمسایہ ممالک کے کردار اور مقام کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیتے ہوۓ اپنی خارجہ پالیسی تدوین کرے گا۔ اس زاویۂ نگاہ سے ایران اور ترکی خطے میں متوازن کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں۔
بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ ایران اور ترکی کے درمیان باہمی تعلقات میں توسیع کے بہت سے مواقع پاۓ جاتے ہیں۔ خلیج فارس کے پانیوں اور یورپ تک رسائي کے سلسلے میں ان دونوں ممالک کی جیوپولیٹیکل برتری اور توانائی کی منتقلی اور سلامتی کے سلسلے میں ان کا کردار ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث ہوا ہے اور ایران اور ترکی کے باہمی تجارتی حجم کو بیس ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گيا ہے۔ یہی خصوصیات زیادہ جامع مسائل کے تناظر میں ایران اور ترکی کے باہمی تعاون کا سبب بنی ہیں۔ مثلا ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں ترکی مشاورت کا ایک فریق رہا ہے اور ایران کو بھی اس تعاون پر اعتماد ہے۔ بنابریں ترکی کے وزیر اعظم کے دورۂ ایران کو سیاسی اور اقتصادی لحاظ نیز علاقائي صورتحال اور گروپ پانچ جمع ایک اور ایران کے مذاکرات کے سلسلے میں مشاورت اور تہران و انقرہ تعلقات میں توسیع کے اعتبار سے ایک اہم دورہ قرار دیا جا سکتا ہے۔........ /169